السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک شخص نے دوسرے شخص کی کار میں الٹی کی، جس کی وجہ سے گاڑی خراب ہو گئی اور وہ دھلنے کے لیے چلی گئی اس پر 100 روپے خرچہ آیا، اس نے اس سے 100 روپے جرمانہ لیا اور اس کے دھلنے میں ایک دن لگا تو ایک دن اس کا اور ضائع ہوا تو کیا وہ ایک دن جو ضائع ہوا ہے اس کے وہ پیسے لے سکتا ہے؟
اگر کسی آدمی نے دوسرے شخص کا نقصان کیا تو اس شخص پر صرف اتنا ہی تاوان لازم ہوگا، جتنا اس نے نقصان کیا ہو،اس سے زیادہ لینا جائز نہیں۔ پوچھی گئی صورت میں گاڑی کو ناپاک یا گندا کرنے کی وجہ سے جو حقیقی طور پر 100 روپے صفائی کا خرچہ ہوا، اس کا تاوان لینا جائز ہے، البتہ گاڑی واش کروانے کی وجہ سے جو وقت ضائع ہوا اس کا الگ سے مالی معاوضہ لینا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ وقت بذاتِ خود ایسی مالی چیز نہیں جس کی قیمت مقرر کر کے تاوان لیا جائے۔
*القرآن الکریم: (البقرہ:149:2)* فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ بِهِ. *الشامية:(61/4،ط: دارالفكر)* مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. *معراج الدراية:(236/3،ط:دار الكتب العلمية)* الجزاء إنما يجب بحسب الجناية.