کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت فوت ہوئی ،اس کی ورثا میں اس کی دو بیٹیاں اور ایک 13 سالہ سوتيلا بیٹا ہے، اس کی متروکہ جائیداد کس طرح تقسیم ہو گی؟
واضح رہے کہ میت کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور ایک تہائی میں وصیت نافذ کر دینے کے بعد بقیہ مال کو اس کی ورثا میں تقسیم کیا جائے گا۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر مرحومہ کا اور کوئی وارث نہ ہو، تو ترکہ دونوں بیٹیوں کو ملے گا اور سوتیلا بیٹا وارث نہیں ہوگا لہذا کل مال کے دو حصے کیے جائیں گے اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔
القرأن الكريم : [النساء:/4 11] يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ.... إِنِ ٱمۡرُؤٌاْ هَلَكَ لَيۡسَ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَهُۥٓ أُخۡتٞ فَلَهَا نِصۡفُ . الدرالمختار :(6/ 762، ط: دارالفكر) (ويستحق الإرث) ولو لمصحف به يفتى وقيل لا يورث وإنما هو للقارئ من ولديه صيرفية بأحد ثلاثة (برحم ونكاح) صحيح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا (وولاء). الهندية: (6/ 447، ط:دارالفكر) ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء.