کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کے بارے میں کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ رکشہ خرید کر کسی ڈرائیور کو روزانہ ایک ہزار روپے کرایہ کہ عوض پر دیتے ہیں ،پھر چاہے ڈرائیور کچھ کمائے یا نہ کمائے ،بہرحال اس سے متعین رقم وصول کی جاتی ہے۔ کیا یہ معاملہ شرعاً جائز ہے ؟
واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ میں اجرت اور مدت متعین ہے ،اس لیے ڈرائیور کچھ کمائے یا نہ کمائے بہرحال وہ مقررہ کرایہ مالک کو دینے کا پابند ہوگا اور شرعا یہ معاملہ درست ہے ۔
الهندية: (4/ 413، ط: دارالفكر) حتى إن من استأجر دابة يوما لأجل الركوب فحبسها المستأجر في منزله ولم يركبها حتى مضى اليوم فإن استأجرها للركوب في المصر يجب عليه الأجر لتمكنه من الاستيفاء في المكان الذي أضيف إليه العقد. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (4/ 215، ط: دارالكتب العلمية ) إذا استأجرها عشرة أيام ليركبها فحبسها، ولم يركبها حتى ردها يوم العاشر أن عليه الأجرة، ويسع لصاحبها أن يأخذ الكراء، وإن كان يعلم أنه لم يركبها؛ لأن استحقاق الأجرة في الإجارات على الوقت بالتسليم في الوقت، وقد وجد فتجب الأجرة كما في إجارة الدار.