کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بچے کی پیدائش ہوئی اور اس کی مدت رضاعت ختم ہونے سے پہلے دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی اب اس حوالے سے درج ذیل سوال کے جوابات عنایت فرمائیں دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد پہلے بچے کو دودھ پلانے کا کیا حکم ہے؟ قران و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔
مذکورہ مسئلے میں اگر پہلے بچے کی مدت رضاعت پوری نہیں ہوئی ہے ،کیونکہ دو سال ہے، تو دو سال پورا ہونے تک دودھ پلانا ہوگا دوسرے بچے کی پیدائش کی وجہ سے شرعا اس میں کوئی اثر نہیں پڑے گا.
الدرالمختار : (3/ 209، ط: دارالفكر) (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان) فقط (عندهما وهو الأصح) فتح وبه يفتى. مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (1/ 375، ط: دار إحياء التراث العربي ) (وهي) أي مدته (حولان ونصف) أي ثلاثون شهرا من وقت الولادة عند الإمام فإن كانت الولادة في أول شهر يعتبر بالأهلة وإن كانت في أثنائها يعتبر كل شهر ثلاثون يوما، وقيل يثبت الرضاع إلى خمس عشرة سنة وقيل إلى أربعين سنة وقيل إلى جميع العمر وعند زفر ثلاثة أحوال (وعندهما حولان) وهو قول الشافعي وعليه الفتوى.