مفتی صاحب ! کیا انٹرنیٹ کے ذریعے بینکوں کی ویب سائٹ ہیک کر کے وہاں سے رقم منتقل کرنا چوری شمار ہوگا ؟اور کیا ہیکر کو چوری کی حد لگائی جائے گی؟
واضح رہے کہ چوری کہتے ہیں کہ ’’دوسرے کے مملوک اور محفوظ مال کو خفیہ طریقے سے لینا‘‘ پوچھی گئی صورت میں بھی انٹرنیٹ کے ذریعے بینکوں کی ویب سائٹ کو ہیک کر کے بینک کے محفوظ مال کو خفیہ طریقے سے منتقل کیا جا رہا ہے ،جو کہ چوری میں شمار ہوگا اور اگر 10 درہم سے زیادہ رقم منتقل کر دی گئی ہو، تو اس پر حد بھی جاری ہوگی۔
الموسوعة الفقهية الكويتية: (24/ 292،ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية ) في اللغة: السرقة أخذ الشيء من الغير خفية. يقال: سرق منه مالا، وسرقه مالا يسرقه سرقا وسرقة: أخذ ماله خفية، فهو سارق. ويقال: سرق أو استرق السمع والنظر: سمع أو نظر مستخفيا .وفي الاصطلاح: هي أخذ العاقل البالغ نصابا محرزا، أو ما قيمته نصاب، ملكا للغير، لا شبهة له فيه، على وجه الخفية. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (7/ 65، ط: دارالكتب العلمية ) أما ركن السرقة فهو الأخذ على سبيل الاستخفاء قال الله تبارك وتعالى {إلا من استرق السمع} [الحجر: 18] سمى سبحانه وتعالى أخذ المسموع على وجه الاستخفاء استراقا.