حصص کی تعیین کے بغیر مضاربت کا حکم

فتوی نمبر :
1914
معاملات / مالی معاوضات /

حصص کی تعیین کے بغیر مضاربت کا حکم

ایک آدمی نے ایک سنار کو 20 تولے سونا دیا کہ آپ کام کریں، اب سونا مثلا ایک لاکھ روپے تولہ ہے تو سنار کو مارکیٹ سے 20 رتی ملاوٹ کے ساتھ 90 ہزار کا ملے گا، دس رتی کا مارکیٹ والوں نے دس ہزار مزدوری اور نفع رکھ لیا اور دس ہزار یہ سنار اپنی دوکان میں بیچ کر نفع لیتا ہے۔۔ اب یہ سنار آٹھ رتی کا نفع خود رکھتا ہے اس میں دوکان کرایہ، بجلی بل، ملازم کی تنخواہ سب شامل ہے اور دو رتی کا اس کو نفع دیتا ہے جس نے سونا انویسٹ کیا ہوا ہے ۔ کیا یہ جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں اگر سرمایہ صرف مذکورہ شخص کا ہے، سونار کا اس کاروبار میں کوئی سرمایہ شامل نہیں ہے تو شرعًا یہ عقد مضاربہ ہے اور عقد مضاربہ کے صحیح ہونے کے لیے من جملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ فریقین کے مابین نفع کا فیصد کے اعتبار سے متعین ہونا ضروری ہے ، اگر فریقین کے مابین نفع فیصد کے اعتبار سے متعین نہ ہو تو عقد فاسد ہوجاتا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں نفع حصص کے اعتبار سے متعین نہیں ہوا، اس لیے یہ عقد فاسد ہے، چوں کہ یہ عقد شرعاً فاسد ہے، اس لیے اس عقد سےحاصل ہونے والے نفع کا حکم یہ ہے کہ وہ نفع سب رب المال (سرمایہ دار) کا ہوگا اور مضارب یعنی سونار کے لیے اجرتِ مثل ہوگی۔
اگر اس عقد میں سونار کا سرمایہ بھی شامل تھا تو اس صورت میں یہ عقد شرکت ہے اور عقد شرکت میں بھی نفع کا تناسب شرح فیصد کے اعتبار سے یا حصص کے اعتبار سے طے ہونا ضروری ہے، ورنہ شرکت فاسد ہوجاتی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں نفع کا تناسب طے نہ ہونے کی وجہ سے یہ شرکت بھی فاسد ہے۔
ایسے عقدِ فاسد کا حکم یہ ہے کہ اس میں نفع کی تقسیم ہر ایک کے سرمایہ کے حصص کے اعتبار سے ہوتی ہے۔

حوالہ جات

*الشامية:(648/5،ط:دارالفكر)*
(وكون رأس المال عينا لا دينا) كما بسطه في الدرر (وكونه مسلما إلى المضارب) ليمكنه التصرف (بخلاف الشركة) ؛ لأن العمل فيهما من الجانبين (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد.
ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة..

*الموسوعة الفقهية:(78/38،ط:دارالسلاسل)*
ذهب الحنفية والشافعية والحنابلة إلى أنه يترتب على فساد المضاربة:
أ - أن الربح - إن حدث - يكون كله لرب المال، لأن الربح نماء ماله، وإنما يستحق المضارب شطرا منه بالشرط، ولم يصح الشرط لأن المضاربة إذا فسدت فسد الشرط، فلم يستحق المضارب من الربح شيئا، وكان كله لرب المال.
ب - أن المضارب له أجر مثله - خسر المال أو ربح - لأن عمله إنما كان في مقابلة المسمى، فإذا لم تصح التسمية وجب رد عمله عليه، وذلك متعذر، فوجب له أجرة المثل، ولأن المضاربة الفاسدة في معنى الإجارة الفاسدة، والأجير لا يستحق المسمى في الإجارة الفاسدة، وإنما يستحق أجر المثل .
وعند الحنفية: يكون للمضارب أجر مثل عمله مطلقا، وهو ظاهر الرواية، ربح المال أو لا، بلا زيادة على المشروط خلافا لمحمد، وعن أبي يوسف أن المال إذا لم يربح لا أجر للمضارب.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
21
فتوی نمبر 1914کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --