السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! اے ٹی ایم کارڈ کے بارے میں معلوم کرنا تھا اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کا بنوانا کیسا ہے ؟
غیر سودی بینک کا اے ٹی ایم کارڈ بنوانا اور اس کا استعمال کرنا شرعا جائز ہے، بشرطیکہ ناجائز کاموں میں اس کا استعمال نہ ہو
فتاوی عثمانی (3/355 ، ط: معارف القرآن کراچی میں ہے) کارڈ کی ایک قسم ہے جس کو اے ٹی ایم کاٹ کہتے ہیں یہ رقم نکالنے کا کارڈ ہوتا ہے بعض دفعہ اس کا وجود اوپر ذکر کردہ کارڈ کے ضمن میں ہوتا ہے ،مثلا یہ ممکن ہے کہ ڈیبیٹ کارڈ میں رقم نکالنے کی سہولت بھی موجود ہو اس کارڈ کا حکم یہ ہے کہ اس کے استعمال کرنے پر اگر متعین رقم مشین کے استعمال کی اجرت کے طور پر ادا ادارہ وصول کرے ،جو مقدار رقم سے قطع نظر ہو تو جائز ہے، لیکن اگر ادارہ رقم کو بنیاد بنا کر اس پر کچھ وصول کریں ،تو یہ جائز نہیں بلکہ سود ہوگا، البتہ ادارہ کارڈ جاری کرنے کی فیس وصول کر سکتا ہے بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام (1/19، ط: دارالاشاعت کراچی میں ہے) چونکہ معاملات میں اصل اباحت ہے ،اس لیے اے ٹی ایم کارڈ جس کے ذریعے مشین سے اپنی جمع کردہ رقم نکالی جاتی ہے کہ استعمال میں شرعا کوئی قباحت نہیں ۔