اگر کسی عورت کو زنا سے حمل ہو جائے تو کیا وہ اس حالت میں نکاح کر سکتی ہے؟
اگر زنا کے نتیجے میں حمل ٹھہر جائے تو حمل کی حالت میں بھی نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، اگر نکاح اسی شخص (زانی) سے ہو جس سے حمل ٹھہرا ہو تو ازدواجی تعلق قائم کرنا بھی جائز ہے، البتہ اگر نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو تو بچے کی پیدائش (وضعِ حمل) تک ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں۔
*الهندية:(475/1،ط: دارالفكر)* والزنا لا يوجب العدة ولا يمنع من أن تتزوج وبه نأخذ إلا إذا كانت حبلى على قول أبي يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - حتى تضع حملها وعلى قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - يجوز كذا في التتارخانية. *بدائع الصنائع:(269/2،ط:دار الكتب العلمية)* وعلى هذا يخرج ما إذا تزوج امرأة حاملا من الزنا أنه يجوز في قول أبي حنيفة ومحمد، ولكن لا يطؤها حتى تضع وقال أبو يوسف: (لا يجوز) وهو قول زفر.