مفتی صاحب! تنگدستی کے ڈر سے نکاح نہ کرنا کیسا ہے؟ جبکہ لڑکا جوان ہو
واضح رہے ہیں کہ دین اسلام میں نکاح کو عبادت میں شمار کیا ہے، بلکہ نکاح میں مشغولیت کو دیگر نفلی عبادات میں مشغولیت سے افضل قرار دیا ہے، اسی طرح نکاح ایمان کی تکمیل کا سبب اور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت ہے ،لہذا جو شخص بیوی کا حق مہر اور نان و نفقہ دینے پر قادر ہو اور اس کو غلبہ شہوت کی وجہ سے گناہ میں مبتلا ہونے کا یقین ہو تو ایسے شخص پر نکاح کرنا شرعا واجب ہے، البتہ اگر بیوی کا مہر اور نان و نفقہ برداشت نہ کر سکتا ہو تو ایسی صورت میں نکاح نہ کرنے کی اجازت ہے، لیکن تنگدستی کے خوف کی وجہ سے نکاح کو ترک کرنا مناسب نہیں، بلکہ ازروئے قرآن نکاح کرنے والے اگر فقیر بھی ہوں تو اللہ رب العزت اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔
*القرآن الکریم:(النور32:24)* "وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ" *صحيح البخاري: (رقم الحدیث:5065،ط:دار طوق النجاۃ)* عن علقمة قال: «كنت مع عبد الله فلقيه عثمان بمنى، فقال يا أبا عبد الرحمن، إن لي إليك حاجة، فخليا فقال عثمان: هل لك يا أبا عبد الرحمن في أن نزوجك بكرا تذكرك ما كنت تعهد؟ فلما رأى عبد الله أن ليس له حاجة إلى هذا أشار إلي فقال: يا علقمة، فانتهيت إليه وهو يقول: أما لئن قلت ذلك، لقد قال لنا النبي صلى الله عليه وسلم: يا معشر الشباب، من استطاع منكم الباءة فليتزوج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم؛ فإنه له وجاء. *سنن الترمذي: (2/ 553،ط: دار الرسالة العالمية)* 1103 - حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا حفص بن غياث، عن الحجاج، عن مكحول، عن أبي الشمال عن أبي أيوب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أربع من سنن المرسلين: الحياء، والتعطر، والسواك، والنكاح".