ایک عورت کو اس کے شوہر نے اس کے سامنے طلاق دے دی، اور شوہر نے عورت کا سارا جہیز وغیرہ خود رکھ لیا اور واپس نہیں دیا۔ بعد میں اس عورت کے گھر والوں نے اس کی دوسری شادی کر دی۔پہلی شادی سے اس عورت کی دو بچیاں تھیں، جن کی پرورش مکمل طور پر والدہ نے کی،بچیاں والد کے پاس نہیں رہیں۔ والدہ نے ہی ان کا سارا خرچ اور اخراجات برداشت کیے، حتیٰ کہ بعد میں ان کی شادیاں بھی خود کر دیں۔اب ان میں سے ایک بیٹی فوت ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ:اس فوت ہونے والی بیٹی کا جو جہیز، زیورات یا دیگر سامان ہے جو اس کی وراثت میں شمار ہوگا، کیا اس میں اس لڑکی کے حقیقی والد کو بھی حصہ ملے گا یا نہیں؟براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرما دیجیے۔
واضح رہے کہ میراث کا حق کسی معاوضہ کے ساتھ مقید نہیں ہوتا ،لہذا باپ کو بیٹی کے ترکہ میں ۶/۱ حصہ ملے گا،خواہ اس نے بیٹی پرورش کی ہو یا نہ کی ہو۔
*القرآن الكريم:(النساء11:4)* وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُۚ-فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ *الشامية: (6/ 766،ط:دارالفكر)* (وموانعه) على ما هنا أربعة (الرق)... (والقتل).. الموجب للقود أو الكفارة وإن سقطا بحرمة الأبوة على ما مر.. (واختلاف الدين) إسلاما وكفرا.. (و) الرابع (اختلاف الدارين) فيما بين الكفار عندنا..