گھر کی تعمیر کے لیے ماں کی طرف سے دیے گئے پیسوں کا حکم

فتوی نمبر :
991
معاملات / مالی معاوضات /

گھر کی تعمیر کے لیے ماں کی طرف سے دیے گئے پیسوں کا حکم

مفتی صاحب!
ایک خاتون نے مکان میں اپنے چھوٹے بچے کو اس کے حصے کے علاوہ اپنے دس لاکھ بھی مکان کے لیے دے دیے تھے اور ماں اس کے ساتھ ہی رہتی تھیں، اب وہ بیٹا مکان بیچ رہا ہے تو ان کا سوال یہ ہے کہ اپنے دس لاکھ کا مطالبہ کرسکتی ہیں یا نہیں؟ اور ماں کس کے ساتھ رہے؟
اب تک تو اسی بچے کے ساتھ رہتی تھیں، جس کو دس لاکھ دیے تھے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر ماں نے اپنے بیٹے کو مکان خریدنے یا تعمیر کرنے کے لیے رقم قرض دی تھی تو جب بیٹا مکان بیچ رہا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ ماں کے پیسے واپس کرے، کیونکہ قرض لوٹانا شرعاً واجب ہے۔
لیکن اگر ماں نے یہ رقم ہدیہ (تحفہ) کے طور پر دی تھی اور بیٹے کو مالک بنا دیا تھا تو اب اس رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں،بہر صورت ماں کا خیال رکھنا، انہیں رہائش، کھانا اور علاج معالجہ مہیا کرنا تمام اولاد کا فریضہ ہے ۔

حوالہ جات

*سنن ابن ماجة:(479/3،رقم حديث: 2400،ط:دار الرسالة العالمية)*
حدثنا إبراهيم بن المستمر، حدثنا محمد بن عبد الله (ح) وحدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابن أبي عدي؛ جميعا عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن
عن سمرة، أن رسول الله ﷺ قال: «على اليد ما أخذت حتى تؤديه».

*بذل المجهود:(286/11،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)*
على اليد ما أخذتْ حتى تؤدي) أي ما أخذ رجل بيده من رجل آخر استعارةً، فاللازم على يد المستعير أن يرده (ثم إن الحسن نسي فقال: هو أميتك، لا ضمان عليه) هذا كلام قتادة.
وحاصله: أن الحسن روى أولًا عن سمرة أن رسول الله ﷺ قال: «على اليد ما أخذتْ حتى تُؤَدي»، وهذا الكلام يدل عند قتادة أن رد العارية واجب إذا كان موجودًا، وإذا هلك يجب عليه ضمانه؛ فعلى هذا ظن أن الحسن نسي الحديث، فقال بعد ذلك: هو أي المستعير أمين لا ضمان عليه، فقال بذلك؛ لأنه نسي الحديث، ولو لم ينس لما خالف.

*الهندية:(386/4،ط: دارالفكر)*
أما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع (منها) هلاك الموهوب؛ لأنه لا سبيل إلى الرجوع في قيمته لعدم انعقاد العقد عليها.... ومنها القرابة المحرمية)، سواء كان القريب مسلما أو كافرا، كذا في الشمني. ولا يرجع في الهبة من المحارم بالقرابة كالآباء والأمهات، وإن علوا والأولاد، وإن سفلوا وأولاد البنين والبنات في ذلك سواء وكذلك الإخوة والأخوات والأعمام والعمات والمحرمية بالسبب لا بالقرابة لا تمنع الرجوع كالآباء والأمهات والإخوة والأخوات من الرضاع، وكذا المحرمية بالمصاهرة كأمهات النساء والربائب وأزواج البنين والبنات، كذا في خزانة المفتين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
32
فتوی نمبر 991کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --