بغیرکاغذات والی گاڑی خریدنے کاحکم

فتوی نمبر :
1253
معاملات / مالی معاوضات /

بغیرکاغذات والی گاڑی خریدنے کاحکم

میرا سوال یہ ہےکہ ایسی گاڑی خریدنا جس کے کاغذات نہ ہوں شرعا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بغیر کاغذات والی گاڑی سے مراد اگر یہ ہے کہ اس گاڑی کےکاغذات اصل مالک سے گم ہوگئے ہیں تو ایسی گاڑی خریدنا شرعا ًجائز ہے، تاہم حكومت کے قوانین کی خلاف ورزی ہے اور پکڑے جانے کی صورت میں عزتِ نفس پامال ہونے کا خطرہ ہے، اس لیے ایسی گاڑی خریدنے سے اجتناب کیا جائے اور اگر اس سے مراد چوری کی گاڑی ہے تو ایسی گاڑی خریدنا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

*مصنف ابن أبي شيبة:(12/ 246،رقم الحدیث:23469،ط:دار كنوز إشبيليا للنشر والتوزيع، الرياض)*
حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مصعب بن محمد عن رجل من أهل المدينة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "من ‌اشترى ‌سرقة ‌وهو ‌يعلم ‌أنها ‌سرقة فقد شرك في عارها وأثمها".

*الشامیة:(5/ 98،ط:دارالفکر)*
مطلب الحرمة تتعدد (قوله الحرمة تتعدد إلخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: ‌هو ‌محمول ‌على ‌ما ‌إذا ‌لم ‌يعلم ‌بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
42
فتوی نمبر 1253کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --