السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
وفاق المدارس العربیہ پاکستان۔یہ داخلہ فیس کے بارے میں کہ وہ ایک مدت کے بعد فیس کو ڈبل کر دیتے ہیں پھر ٹرپل کر لیتے ہیں پھر اس کی چار گنا زیادہ کر لیتے ہیں تو یہ ان کا فیس زیادہ کرنا کس زمرے میں ہے اور یہ جائز ہے ناجائز ہے اگر یہ جو جرمانے کی صورت میں لیتے ہیں تو جرمانے کا پیسہ لینا تو ٹھیک ہے لیکن جرمانے کا پیسہ خرچ کرنا یا لگانا ٹھیک نہیں ہے جرمانے کا پیسہ ہے اس کو واپس کرنا ہے اور اگر وہ جرمانہ نہ ہو تو بینک والے بھی اسی طرح کرتے ہیں کہ کوئی گاڑی یا کسی چیز کو اس نے لیا اور اگر وہ اس مدت تک پیسے نہ دے تو وہ بینک والے بھی اس کو ڈبل کر دیتے ہیں تو وہاں پر وہ سود ہوتا ہے اور وہاں پر وہ سود کا حکم جاری ہوتا ہے تو یہاں پر کیا حکم ہے
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں جزاک اللّٰہ خیر بارک اللہ فی الدارین
فیس میں تاخیر کی وجہ سے جرمانہ لینا شرعاً درست نہیں ہے، کیونکہ یہ ناجائز اضافی رقم شمار ہوتی ہے۔ البتہ وفاق المدارس کی طرف سے مختلف اوقات میں داخلہ فیس کی مختلف مقدار مقرر کرنا تاخیر پر جرمانہ نہیں، بلکہ ہر وقت کے حساب سے الگ الگ فیس طے کرنا ہے۔
مثال کے طور پر: اگر کوئی آج داخلہ کراتا ہے تو فیس پانچ سو روپے ہے، اور اگر ایک مہینے بعد داخلہ کرائے تو فیس ایک ہزار روپے ہے۔ یہ تاخیر پر جرمانہ نہیں بلکہ ہر وقت کے اعتبار سے الگ معاملہ ہے، اس لیے یہ بالکل جائز اور درست ہے۔
جہاں تک بینک کا معاملہ ہے تو وہ اصل قرض پر مدت گزرنے کے بعد اضافہ لیتے ہیں۔ وہاں اصل معاملہ قرض کا ہے، اور قرض پر زیادتی لینا صریح ربا (سود)ہے، جبکہ وفاق المدارس میں معاملہ فیس کا ہے، جو ایک معاوضہ ہے اور مختلف اوقات کے حساب سے اس کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔
*القرآن الکریم:(النساء:29:4)*
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا.
*سنن الترمذي:27/3،رقم الحديث: (1352،ط:دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا الحسن بن علي الخلال، قال: حدثنا أبو عامر العقدي، قال: حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن أبيه ،عن جده أن رسول الله ﷺ قال: «الصلح جائز بين المسلمين، إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما،» والمسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما.
*معالم السنن:(166/4،ط:المطبعة العلمية حلب)*
وقوله المسلمون على شروطهم فهذا في الشروط الجائزة في حق الدين دون الشروط الفاسدة وهذا من باب ما أمرالله تعالى من الوفاء بالعقود.