زکوۃ و نصاب زکوۃ

تقسیم میراث سے پہلے زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
942
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

تقسیم میراث سے پہلے زکوۃ کا حکم

مفتی صاحب !
سوال یہ ہے کہ میراث تقسیم کرنے سے پہلے زکوۃ ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر وراثت میں مال ملتے ہی وہ مال تقسیم ہو جائے اور ہر وارث کو اس کا حصہ مل جائے، تو اس کے بعد ہر وارث کے حصے پر زکوٰۃ اسی وقت فرض ہوگی جب وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک سال (حولانِ حول) گزر جائے۔
اگر وراثت کا مال ابھی تقسیم نہ ہوا ہو اور سب ورثا کے پاس مشترک ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔کیونکہ مال ابھی کسی ایک فرد کی ملکیت میں متعین طور پر نہیں آیا۔ جب ہر وارث کو اس کا حصہ مل جائے، تب وہ اپنے حصے کا مالک کہلائے گا اور پھر وہ اپنے نصاب و سال کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرے گا۔

حوالہ جات

*بدائع الصنائع:(10/2،دارالکتب العلمیة)*
وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث أو بصنعه كالوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن القصاص وبدل الكتابة. ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض.

*الفتاوى الهندية:(1/ 175،دارالفکر*
وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى ضعيف وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلا عن شيء كالوصية أو بفعله بدلا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصابا ويحول عليه الحول.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
50
فتوی نمبر 942کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --