احکام عدت

حاملہ عورت کی عدت وفات

فتوی نمبر :
817
معاملات / عدت نان و نفقہ / احکام عدت

حاملہ عورت کی عدت وفات

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
مسئلہ یہ پوچھنا تھا کے ایک عورت ہے اس کے شوہر انتقال کرگیا ہے اور ابھی وہ حاملہ ہے 3 مہینے کا تو اب اس عورت کی عدت کب سے شروع ہوگی ؟بچہ کے بعد شروع ہوگی یا شوھر کے وفات سے؟
والسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جب شوہر کا انتقال ہو جائے تو عدت شوہر کے انتقال کے بعد سے شروع ہوتی ہے، لہذا اگر عورت حاملہ ہو تو عدت بچے کی پیدائش تک ہے، چاہے پیدائش فوراً ہو یا کئی ماہ بعد۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:(سورة الطلاق: 4:56)
وَأُو۟لَاتُ ٱلۡأَحۡمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۗ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مِنۡ أَمۡرِهِۦ يُسۡرٗا.

الشامية:(511/3،ط: دارالفکر)
(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها) .

الهندية:(528/1،ط: دارالفكر)
وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان. وسواء كانت المرأة حرة أو مملوكة قنة أو مدبرة أو مكاتبة أو أم ولد أو مستسعاة مسلمة أو كتابية كذا في البدائع.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
72
فتوی نمبر 817کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --