شرکت میں کسی ایک فریق کا متعین نفع لینا

فتوی نمبر :
808
معاملات / مالی معاوضات /

شرکت میں کسی ایک فریق کا متعین نفع لینا

تنقیح:
روزانہ کے 300 کس مد میں دے رہے ہیں ؟نفع ؟یا قرض کی اصل رقم ؟
جواب تنقیح: روزانہ کے 300 بطور نفع دیے جارہے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شرکت میں کسی ایک فریق کا متعین نفع لینا جائز نہیں ،بلکہ نفع فیصد کے اعتبار سے متعین کرنا ضروری ہے، پوچھی گئی صورت میں چونکہ 300 روپے نفع متعین کیا گیا ہے،یہ صورت جائز نہیں، اس لیے یہ معاملہ ختم کر کے تناسب کے لحاظ سے فریقین اپنے لیے نفع طے کریں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع:(59/6،ط: دارالکتب العلمیة)
"(ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلايتحقق الشركة في الربح".

الھندیة: (320/2، ط: دار الفکر)
وإن قل رأس مال أحدهما وكثر رأس مال الآخر واشترطا الربح بينهما على السواء أو على التفاضل فإن الربح بينهما على الشرط، والوضيعة أبدا على قدر رءوس أموالهما.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
54
فتوی نمبر 808کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --