نجاسات اور پاکی

وضو اور غسل میں کریم اور تیل ہٹانے کا حکم

فتوی نمبر :
693
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

وضو اور غسل میں کریم اور تیل ہٹانے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
فرض غسل کے لیے بالوں میں تیل اور جسم میں کریم جو چکنی ہوتی ہے اس کا ہٹانا ضروری ہے یا پھر بس پانی سے غسل ہی کافی ہے؟
اسی طرح وضو کرتے وقت چہرے پر جو چکنی کریم لگی ہوتی ہے اس کو ہٹانا ضروری ہے؟ یعنی صابن کا استعمال ضروری ہے یا پھر بس پانی سے دھو لینا کافی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر بدن پر ایسی چیز لگی ہو ،جس کی وجہ سے پانی بدن تک نہ پہنچ سکے تو وضو سے پہلے اسے ہٹانا ضروری ہے، چونکہ کریم اور تیل پانی کے عضو تک پہنچنے سے مانع نہیں ہیں، اس لیے ان کو ہٹائے بغیر بھی وضو اور غسل ہو جائے گا ۔

حوالہ جات

الشامية:(154/1،ط: دارالفكر)*
(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه به يفتى (ودرن ووسخ) عطف تفسير وكذا دهن ودسومة (وتراب) وطين ولو (في ظفر مطلقا) أي قرويا أو مدنيا في الأصح بخلاف نحو عجين.

*الهندية:(5/1،ط:دارالفكر)*
وإذا دهن رجليه ثم توضأ وأمر الماء على رجليه فلم يقبل الماء لمكان الدسومة جاز الوضوء. كذا في الذخيرة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
82
فتوی نمبر 693کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --