مفتی صاحب!
ہماری کمپنی میں کپڑے دھلائی کے لیے مشین میں ڈالے جاتے ہیں۔ یہ کپڑے مختلف کمپنیوں اور مختلف لوگوں کے ہوتے ہیں اور سب کپڑے آپس میں مکس ہو جاتے ہیں، ان میں انڈین اور mixed (ملے جلے) کپڑے بھی ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب سارے کپڑے ایک ساتھ مشین میں دھوئے جائیں تو کیا وہ سب پاک ہو جاتے ہیں یا نہیں؟
واضح رہے کہ مختلف کمپنیوں سے آئے ہوئے کپڑوں کے بارے میں اگر یقین ہو کہ وہ نجاست سے پاک ہیں تو ایک مشین میں ایک مرتبہ دھولینا کافی ہے ، لیکن اگر پاک ہونے کایقین نہ ہو توپھر ایک مشین میں دھوتے وقت پاک و ناپاک سب کپڑوں کو تین مرتبہ دھوکر نچوڑنا ضروری ہے ،البتہ اگر واشنگ مشین سے نکالنے کے بعد ان كپڑوں پر صاف پانی کثرت سے بہایا جائے تو بھی کپڑے پاک ہوجائیں گے ۔
*دلائل :*
*الهندية: (1/ 41،ط:دارالفکر)*
وإزالتها إن كانت مرئية بإزالة عينها وأثرها إن كانت شيئا يزول أثره ولا يعتبر فيه العدد. كذا في المحيط فلو زالت عينها بمرة اكتفى بها ولو لم»تزل بثلاثة تغسل إلى أن تزول، كذا في السراجية...... وإن كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات. كذا في المحيط ويشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر ويبالغ في المرة الثالثة حتى لو عصر بعده لا يسيل منه الماء ويعتبر في كل شخص قوته....ثوب نجس غسل في ثلاث جفان أو في واحدة ثلاثا وعصر في كل مرة طهر لجريان العادة بالغسل. هكذا فلو لم يطهر لضاق على الناس.
*الشامية : (48،ط:دارالفکر)*
(و) يطهر محل (غيرها) أي غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد، به يفتى.
(وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) مبالغا بحيث لا يقطر، ولو كان لو عصره غير قطر طهر بالنسبة إليه دون ذلك الغير، ولو لم يبالغ لرقته هل يطهر؟ الاظهر نعم للضرورة.
(و) قدر (بتثليث جفاف)
أي انقطاع تقاطر (في غيره) أي غير منعصر مما يتشرب النجاسة وإلا فبقلعها كما مر، وهذا كله إذا غسل في إجانة،
أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار.
ويطهر لبن وعسل ودبس ودهن يغلي ثلاثا، ولحم طبخ بخمر يغلي وتبريد ثلاثا، وكذا
دجاجة ملقاة حاله على الماء للنتف قبل شقها فتح.
وفي التجنيس: حنطة طبخت في خمر لا
تطهر أبدا، به يفتى.
ولو انتفخت من بول نقعت وجففت ثلاثا، ولو عجن خبز بخمر صب فيه خل حتى يذهب أثره فيطهر.