ایک شخص صبح اٹھتا ہے اور اپنی شلوار پر کچھ نشانات یا داغ دیکھتا ہے۔ یہ نشان تھوڑے سخت ہیں، لیکن ان میں کوئی بو یا سمیل نہیں ہے اور اس شخص کو یاد نہیں کہ اس نے کوئی ایسا خواب دیکھا ہو جس سے منی خارج ہوئی ہو؟
پوچھی گئی صورت میں اگر سائل کو اس بات کایقین ہو کہ وہ منی( لذت سے شہوت کے ساتھ کود کر نکلتی ہے اس کے بعد عضو کا انتشار ختم ہوجاتا ہے) ہے تو غسل کرنا لازم ہے اور اگر اس بات کا یقین ہو کہ وہ مذی ہے(شہوت کے وقت بغیر شہوت کے نکلتی ہے، اس کے نکلنے پر شہوت قائم رہتی ہے،اس میں کمی نہیں آتی، بلکہ شہوت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے) تو غسل کرنا لازم نہیں اور اگر منی و مذی ہونےمیں شک ہو تو احتیاطاً غسل کرنا بہتر ہے ۔
*المحيط البرهاني:(1/ 85،ط: دارالكتب العلمية)*
وإن رأى بللا إلا أنه لم يتذكر الاحتلام، فإن تيقن أنه (مذي) لا يجب الغسل؛ لأن سبب خروج المني ههنا لم يوجد، فلا يمكن أن يقال بأنه مني ثم رق لطول المدة، بل هو مذي حقيقة، والمذي لا يوجب الغسل وإن شك أنه مني أو مذي.
*الهندية:(1/ 15،ط:دارالفکر)*
وإن رأى بللا إلا أنه لم يتذكر الاحتلام فإن تيقن أنه ودي لا يجب الغسل وإن تيقن أنه مني يجب الغسل وإن تيقن أنه مذي لا يجب الغسل وإن شك أنه مني أو مذي قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى -: لا يجب الغسل حتى يتيقن بالاحتلام، وقالا: يجب.