موکل کے اجازت کے بغیر وکیل کا کمیشن لینا

فتوی نمبر :
642
معاملات / مالی معاوضات /

موکل کے اجازت کے بغیر وکیل کا کمیشن لینا

میں ایک بنگلہ میں ملازم ہوں اور میرا کام بجلی کے متعلق چیزوں سے دیکھ بھال کرنا ہے مگر مالک مجھے اکثر بنگلہ کے دوسرے کاموں کے لیے بازار بھیجتے ہیں وہی پر مجھے دوکان دار کمیشن بھی دیتے ہیں کیا میرے لیے یہ کمشن لینا جائز ہے جب کہ میرے مالک کو اس کمیشن کا علم نہیں ہے براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ پوچھی گئی صورت میں اگر اس طرح کمیشن لینے سے مالکان کا کوئی نقصان نہیں ہو تو آپ کے لیے اس کمیشن کا لینا جائز ہے اور اگر مالکان کا نقصان ہو تو ان کے علم میں لائے بغیر آپ کے لیے اس کمیشن کا لینا جائز نہیں ہے ۔

حوالہ جات

سنن الترمذي:(3/ 16، رقم الحديث : 1337 ،ط: دار الغرب الإسلامي )
عن عبد الله بن عمرو قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌الراشي ‌والمرتشي .

الهندية:(3/ 330، ط:دارالفكر)
والرشوة ‌مال ‌يعطيه بشرط أن يعينه كذا في خزانة المفتين.

البحر الرائق :(6/ 285، ط: دار الكتاب الإسلامي )
وفي وصايا الخانية قالوا ‌بذل ‌المال ‌لاستخلاص حق له على آخر رشوة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
61
فتوی نمبر 642کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --