عقد شرکت میں نقصان ایک فریق کے ذمے لگانا

فتوی نمبر :
609
معاملات / مالی معاوضات /

عقد شرکت میں نقصان ایک فریق کے ذمے لگانا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں دوآدمیوں نے عقد شرکت کی اور ان میں سے ایک نے نقصان اپنے ذمہ لے لیا اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح عقد شرکت کرنا درست ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عقد شرکت میں نفع اور نقصان دونوں میں عقد کرنے والے شریک ہوں گے، لہذا اگر کسی ایک نے نقصان اپنے ذمہ لے لیا تو اس شرط کے لگانے سے عقد شرکت فاسد ہوجائے گی اور فساد کی صورت میں ان دونوں کے درمیان منافع اصل مال کے اعتبار سے تقسیم ہوں گے ۔

حوالہ جات

الشامية :(4/ 305، ط:دارالفكر)
ولا خلاف أن اشتراط الوضيعة ‌بخلاف ‌قدر ‌رأس ‌المال باطل واشتراط الربح متفاوتا عندنا صحيح .

الهندية:(2/ 320، ط: دارالفكر)
ولو شرطا ‌كل ‌الربح لأحدهما فإنه لا يجوز .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
63
فتوی نمبر 609کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --