کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء

بینک میں ملازمت کر نے والے شخص کے ہاں کھانا کھانا

فتوی نمبر :
532
حظر و اباحت / حلال و حرام / کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء

بینک میں ملازمت کر نے والے شخص کے ہاں کھانا کھانا

میرے بھائی بینک میں اچھے پوسٹ پر ہیں میں ان کے گھر کھانا نہیں کھاتی تھی لیکن اب بات بری ہوجاتی ہے اوران کا ایک بیٹا کسی کمپنی میں حلال کام کرتا ہے اسی طرح ان کی آمدنی میں دومکانات اور دو دوکانوں کا کرایہ بھی ہے اور میرے بھائی اب ریٹائرہونے والے ہیں
پوچھنا یہ تھاکہ کیا میں ان کے گھر تھوڑا بہت کھاسکتی ہوں کہ نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اگران کی اکثرکمائی حلال کی ہے تو ان کے ہاں کھانے کی گنجائش ہے اور اگر ان کا اکثر مال حرام ( بینک ملازمت ، وغیرہ) کا ہو تو پھر ان کے ہاں کھانے سے پرہیز کرنا ہی بہتر ہے ۔

حوالہ جات

الهندية: (5/ 342، ط:دارالفكر)
أهدى ‌إلى ‌رجل ‌شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع.

الأشباه والنظائر :(ص96، ط: دار الكتب العلمية)
إذا كان غالب ‌مال ‌المهدي ‌حلالا، فلا بأس بقبول هديته، وأكل ماله ما لم يتبين أنه من حرام.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
94
فتوی نمبر 532کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --