السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! ایک عورت بیوہ ہے، وہ عدت کےدوران لیڈی ڈاکٹر کے بجائے کسی ماہر مرد ڈاکٹر سے بیماری کاچیک اپ کراسکتی ہے یانہیں ؟ اور کیا ڈاکٹر کے پاس جانے میں گناہ تو نہیں؟
شریعت نے عدت کے دوران عورت کو گھر میں رہنے کا پابند کیا ہے ، اس دوران بغیر کسی عذر شرعی کے گھر سے نکلنا (چاہے دن میں ہو یا رات میں) جائز نہیں ہے، تاہم شرعی عذر کی بنیاد پر عورت کے لیے گھر سے جانے کی اجازت ہے، لہذا ذکر کردہ صورت میں اگر گھر میں رہ کر علاج کی کوئی صورت ممکن نہ ہو اور کوئی دوا لا کر دینے والا بھی نہ ہو تو ڈاکٹر کو دکھانے کے لیے گھر سے باہر جانےکی اجازت ہے ، البتہ اس بات کی پوری کوشش کی جائے کہ دن کے وقت میں ڈاکٹر کے پاس جائے اور رات ہونے سے پہلے پہلے گھر واپس آجائے۔ اگر لیڈی ڈاکٹر سے علاج ممکن نہ ہو تو مرد ڈاکٹر سے علاج کروایا جا سکتا ہے۔
الشامية:(371/6،ط: دارالفكر) وقال في الجوهرة: إذا كان المرض في سائر بدنها غير الفرج يجوز النظر إليه عند الدواء، لأنه موضع ضرورة، وإن كان في موضع الفرج، فينبغي أن يعلم امرأة تداويها فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو يصيبها وجع لا تحتمله يستروا منها كل شيء إلا موضع العلة ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن موضع الجرح اهـ فتأمل والظاهر أن «ينبغي» هنا للوجوب. الشامية :(3/ 536، ط:دارالفكر) (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه . الفقه الإسلامي وأدلته :(9/ 7198، ط:دارالفكر) فقالوا: يحرم على المطلقة البالغة العاقلة الحرة المسلمة المعتدة من زواج صحيح الخروج ليلاً ونهاراً، سواء أكان الطلاق بائناً أم ثلاثاً أم رجعياً، لقوله تعالى في الطلاق الرجعي: {لا تخرجوهن من بيوتهن ... وأما المتوفى عنها: فلا تخرج ليلاً، ولا بأس أن تخرج نهاراً في حوائجها؛ لأنها تحتاج إلى الخروج بالنهار لاكتساب ما تنفقه؛ لأنه لا نفقة لها من الزوج المتوفى، بل نفقتها عليها، فتحتاج إلى الخروج لتحصيل النفقة، ولا تخرج بالليل، لعدم الحاجة إلى الخروج بالليل، بخلاف المطلَّقة، فإن نفقتها على الزوج، فلا تحتاج إلى الخروج. الخانية :1/553 ، ط: رشيديه ) فصل : فيما يحرم علي المعتدة الحرة المسلمة في عدة طلاق او فرقة سوي الموت لا تخرج ليلا ولا نهارا الا لضرورة .