السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر میں کیمرے سے تصویر کھینچوں، پرنٹ کے بغیر تو اس سے جو پیسے کماؤں تو کیا وہ حلال ہوں گے یا حرام ؟ دوسری بات یہ ہے کہ اگر میں یوٹیوب پر اپنی ویڈیوز اپلوڈ کروں جائز اسلامی ویڈیوز، ناجائز ویڈیو نہیں تو اس سے جو پیسے ملیں گے کیا وہ حرام ہیں یا حلال؟
(1) واضح رہے کہ ڈیجیٹل کیمروں کی تصویر کے حکم کے بارے میں علماء کرام کے آراء مختلف ہیں ، جو حضرات ڈیجیٹل کیمرے کے تصویر کو عام تصویر کے حکم میں نہیں مانتے ، ان کے ہاں تو اس طرح کے کیمروں سے حاصل ہونے والی آمدنی جائز ہے ، البتہ جو علمائے کرام اسے عام تصویر کے حکم میں مانتے ہیں ان کے نزدیک اس طرح کے کیمروں سے حاصل ہونے والی آمدنی جائز نہیں ، اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس کاروبار کے بجائے کوئی اور کاروبار اختیار کیا جائے اور جتنا ممکن ہو اس سے بچا جائے ۔ (2) واضح رہے کہ یوٹیوب پر ویڈیو اپلوڈ کر کے منافع حاصل کرنا درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے: (۱)جو ویڈیو اپلوڈ کی گئی ہے وہ جاندار کی تصاویر ، میوزک اور غیر شرعی امور سے پاک ہو۔ (۲)ویڈیو میں جو اشتہارات چلائے جاتے ہیں وہ بھی کسی حرام اور ناجائز کام کے نہ ہوں، بلکہ حلال اور جائز کام کے ہوں۔ (۳)ویڈیو مفید معلومات پر مشتمل ہو، کسی قسم کی کوئی بیہودگی اس میں نہ ہو ۔
الشامية : (6/ 55، ط: دارالفكر) (قوله لا تصح الإجارة لعسب التيس) ؛ لأنه عمل لا يقدر عليه وهو الإحبال.مطلب في الاستئجار على المعاصي (قوله مثل الغناء) بالكسر والمد الصوت، وأما المقصور فهو اليسار صحاح (قوله والنوح) البكاء على الميت وتعديد محاسنه (قوله والملاهي) كالمزامير والطبل، وإذا كان الطبل لغير اللهو فلا بأس به كطبل الغزاة والعرس لما في الأجناس: ولا بأس أن يكون ليلة العرس دف يضرب به ليعلن به النكاح. الموسوعة الفقهية : (1/ 290، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية ) الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة وعقدها باطل لا يستحق به أجرة.ولا يجوز استئجار كاتب ليكتب له غناء ونوحا؛ لأنه انتفاع بمحرم. المحيط البرهاني:(5/ 358، ط: دار الكتب العلمية ) وفي «المنتقى» : إبراهيم عن محمد امرأة نائحة، أو صاحب طبل أو مزمار اكتسب قال: إن كان على شرط رده على أصحابهم إن عرفهم يريد بقوله على شرط إن شرطوا لها أو له مالاً بإزاء النياحة أو بإزاء الغناء؛ وهذا لأنه إذا كان الأخذ على شرط كان المال بمقابلة المعصية، فكان الأجر معصية، والسبيل في المعاصي ردها .