کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری بیوی نے عمرے کے لیے کچھ پیسے جمع کیے تھے ان میں سے کچھ بیماری میں خرچ ہو گئے اور ایک لاکھ باقی ہے شریعت کی رو سے یہ کس کو ملیں گے؟ ورثا میں شوہر اور دو بہنیں ہیں.
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل مال سات(7) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا،جس میں سے تین (3) حصے میت کے شوہر کو ملیں گے اور دو دو (2) حصے ہر ایک بہن کو ملیں گے، اس تقسیم کی رو سے ایک لاکھ (100000) روپوں میں سے بیالیس ہزار آٹھ سو ستاون روپے (42857.42) دیے جائیں گے،اور ہر ایک بہن کو اٹھائیس ہزار پانچ سو اکہتر روپے(28571.43) ملیں گے ۔
القرآن الکریم: (النساء: 12:4) وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ... الخ الهندية:(450/6،ط: دارالفكر) الخامسة - الأخوات لأب وأم للواحدة النصف وللثنتين فصاعدا الثلثان، كذا في خزانة المفتين ومع الأخ لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين، ولهن الباقي مع البنات أومع بنات الابن، كذا في الكافي.