مفتی صاحب ! ایک آدمی کا انتقال ہوا اور پیچھے رہنے والوں میں ماں،باپ،ایک بہن دو بھائی اور دادا ہیں تو میراث کیسے تقسیم ہوگی؟
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل مال چھ(6) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے ایک حصہ (1) ماں کو جبکہ بقیہ پانچ (5) حصے باپ کو دیے جائیں گے، دادا اور بہن بھائیوں کو میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
القرآن الکریم:( النساء:11:4) وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا. السراجي في الميراث:(ص:29،ط:البشرى) ويسقط الجد بالاب لان الاب اصل في قرابه الجد الى الميت.