مفتی صاحب! لڈو(چھکا) کھلینا کیسا ہے ؟
واضح رہے کہ لڈو(چھکا) تاش یا موبائل گیمز میں درج ذیل خرابیوں کی وجہ سے اس طرح کے کھیل کھیلنا جائز نہیں ۔ (۱)حقوق اللہ میں کوتاہی یعنی نمازوغیر ہ عبادات کی طرف توجہ نہیں رہتی ۔ (۲)حقوق العباد میں سستی یعنی والدین کی خدمت ، بیوی بچوں کا خیال نہیں رہتا ۔ (۳) پیسوں کی شرط لگانا ، جو کہ حرام ہے ۔ یہ مذکورہ بالا امور سے پاک ہو پھر بھی اس کے عدم جواز کی وجہ یہ ہے اس طرح کے کھیلوں میں اس قدر انہماک ہوتا ہے کہ کئی اہم امور میں غفلت ہوجاتی ہے ، اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہیے ۔
سنن ابن ماجه: (5/ 119 ،رقم الحديث : 3976، ط:دارالرسالة العالمية ) عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه". الدرالمختار : (6/ 394، ط: دارالفكر) (و) كره تحريما (اللعب بالنرد و) كذا (الشطرنج) بكسر أوله ويهمل ولا يفتح إلا نادرا وأباحه الشافعي وأبو يوسف في رواية ... وهذا إذ لم يقامر ولم يداوم ولم يخل بواجب وإلا فحرام بالإجماع. الهندية: (5/ 352، ط: دارالفكر) ويكره اللعب بالشطرنج والنرد وثلاثة عشر وأربعة عشر وكل لهو ما سوى الشطرنج حرام بالإجماع وأما الشطرنج فاللعب به حرام عندنا .