مفتی صاحب ! میرے ابو نے ایک گاڑی خریدی ہے ،اب وہ اس کی ایکسیڈنٹنل انشورنس کروانا چاہتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ شریعت نے سود قمار اور غرر کو حرام قرار دیا ہے اور انشورنس کمپنی کی آج کل جتنی بھی صورتیں ہیں سب سود قمار اور غرر پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے انشورنس کمپنی کے ساتھ دوسری انشورنس کی طرح ایکسیڈنٹل انشورنس کرنا بھی جائز نہیں ۔البتہ اس انشورنس کا متبادل اسلامی طریقہ تکافل ہے، جو باہمی تعاون اور وقف کے اصولوں پر مبنی ہے، جہاں تمام شرکاء مقررہ اصول و ضوابط کے تحت ممکنہ مالی نقصانات سے تحفظ کو طلب کرتے ہیں ،لہذا جن تکافل کمپنیوں کی شرعی نگرانی مستند علماء کرام کر رہے ہیں، ان کمپنیوں سے تکافل کی سہولت حاصل کرنا شرعا درست ہے۔
القرأن الكريم :[المائدة:/5 90] يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ. [البقرة:/2 275] وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ. أحكام القرآن للجصاص: (1/ 398، ط: دارالكتب العلمية ) ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار; قال ابن عباس: إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال، والزوجة، وقد كان ذلك مباحا إلى أن ورد تحريمه. صحيح مسلم: (5/ 3، رقم الحديث : 4 - (1513)، ط: دار طوق النجاة عن أبي هريرة قال: « نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة، وعن بيع الغرر . الشامية : (6/ 403، ط: دارالفكر) (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.