مفتی صاحب ! میں ایک آفس میں کام کرتا ہوں ،میرے ساتھ پانچ اور بھی لڑکے اس آفس میں کام کرتے ہیں، ہمیں آفس کی طرف سے موٹرسائیکل ملتی ہے ،گھر آنے جانے کے لیے اور یہ اس وقت ملتی ہے، جب آفس میں کام کے چھ مہینے پورے ہو جائے جو موٹرسائیکل ہمیں ملتی ہے ،وہ آفس والوں کی ملکیت ہوتی ہے اور کمپنی اس کی انشورنس بھی کرواتی ہے، ہمیں صرف اس کے استعمال کے لیے موٹر سائیکل ملتی ہے ،اس کی انشورنس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ اب کیا یہ موٹر سائیکل ہمارے لیے لینا جائز ہوگا یا نہیں؟ اور اس سے ہماری تنخواہ پر کوئی اثر تو نہیں پڑے گا ؟
اگر ملازمین کو آفس کی طرف سے چھ ماہ کام کے بعد موٹر سائیکل محض استعمال کے لیے ملتی ہے ،تو ملازمین کے پاس یہ موٹر سائیکل امانت ہے ،اگر آفس والے خود موٹرسائیکل کی انشورنس کرواتے ہیں، اس سے ملازم کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ،تو ملازم کے لیے اس کا استعمال درست ہے ،اس سے اس کی تنخواہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
الدرالمختار : (5/ 677، ط: دارالفكر) وشرعا (تمليك المنافع مجانا)... وحكمها كونها أمانة.... وشرطها: قابلية المستعار للانتفاع وخلوها عن شرط العوض، لأنها تصير إجارة. ايضا : (6/ 391، ط: دارالفكر) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (6/ 216، ط: دارالكتب العلمية ) وأما صفة الحكم فهي أن الملك الثابت للمستعير ملك غير لازم؛ لأنه ملك لا يقابله عوض، فلا يكون لازما كالملك الثابت بالهبة، فكان للمعير أن يرجع في العارية سواء أطلق العارية أو وقت لها وقتا.