کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارر میں کہ ہمارے اسکو ل کے اسلامیات ٹیچر نے آج یہ بات کہی کہ جس تفسیر میں قرآن کریم کے آیات کم ہوں اور دیگر باتیں زیادہ ہوں توایسے تفسیر کو بلاوضو ہاتھ لگانا جائز ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟
آپ کے استاد کی بات درست ہے ،تاہم بلاوضو ایسی کسی کتاب کو ہاتھ لگانا جو قرآنی آیات پر مشتمل ہوں، بے ادبی ہے ، البتہ اگر کسی نے بغیر وضو ہاتھ لگا لیا، تو گناہ نہیں ہوگا ۔
الدرالمختار : (1/ 177، ط: دارالفكر) وقد جوز أصحابنا مس كتب التفسير للمحدث، ولم يفصلوا بين كون الأكثر تفسيرا أو قرآنا، ولو قيل به اعتبارا للغالب لكان حسنا قلت: لكنه يخالف ما مر فتدبر. الأشباه والنظائر لابن نجيم: (ص141، ط: دار الكتب العلمية) ولا يكره لمحدث مس كتب الفقه والحديث على الأصح.