کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر قران شریف بوسیدہ ہو جائے، تواس کا کیا کیا جائے؟ ایک عالم صاحب کہتے ہیں :کہ آگ میں جلا کر راکھ کو زمین میں دفن کر دیا جائے ،کیا ایسا کرنا بہتر اور جائز ہے ؟
جو قرآن کریم اس قدر بوسیدہ ہو، کہ تلاوت کے قابل نہ رہے، اس کو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر قبر کود کر اس میں دفن کر دینا چاہیے ،یہی بہتر ہے،جلانا مناسب نہیں ۔
الشامية : (1/ 177، ط: دارالفكر) (قوله: يدفن) أي يجعل في خرقة طاهرة ويدفن في محل غير ممتهن لا يوطأ. وفي الذخيرة وينبغي أن يلحد له ولا يشق له؛ لأنه يحتاج إلى إهالة التراب عليه. الهندية: (5/ 323، ط: دارالفكر) المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه.