کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں اسکول کے ٹیچرز اور مدرسے کے اساتذہ طلبہ کو شرارت یا سبق یاد نہ کرنے کی وجہ سے بہت زیادہ مارتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ شریعت میں بچے کو شرارت پر یا سبق یاد نہ کرنے پر مارنا جائز ہے؟
واضح رہے کہ جس طرح والدین کو اپنی اولاد کی تربیت اور مصلحت کی خاطر سزا دینے کا حق حاصل ہے اسی طرح استاد کو بھی حاصل ہے ،البتہ شریعت نے اس کی کچھ حدود مقرر کی ہے انہی کی رعایت رکھتے ہوئے بچے کو سزا کے طور پر مارنے کی گنجائش ہے ، جو حسب ذیل ہیں : 1. محض خیر خواہی کے طور پر مارے ۔ 2. ایسا نہ مارے جس سے جسم پر زخم یا نشان پڑ جائے ۔ 3. چہرے اور نازل جگہوں پر نہ مارے ۔ 4. ایک دو ضرب سے زیادہ نہ مارے۔
الشامية : (4/ 78، ط: دارالفكر) ولو أمر غيره بضرب عبده حل للمأمور ضربه، بخلاف الحر. قال: فهذا تنصيص على عدم جواز ضرب ولد الآمر بأمره، بخلاف المعلم؛ لأن المأمور يضربه نيابة عن الأب لمصلحة والمعلم يضربه بحكم الملك بتمليك أبيه لمصلحة الولد اهـ وهذا إذا لم يكن الضرب فاحشا . البحر الرائق شرح كنز الدقائق : (5/ 53، ط: دارالكتاب الاسلامي ) قال رضي الله عنه فهذا نصيص على عدم جواز ضرب ولد الآمر بأمره بخلاف المعلم؛ لأن المأمور يضربه نيابة عن الأب لمصلحته والمعلم يضربه بحكم الملك بتمليك أبيه لمصلحة الولد. اهـ.