السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب دو مسئلے دریافت کرنا چاہتا ہوں: ایک یہ کہ میری نانی کا انتقال ہو چکا ہے مرحومہ نے ترکہ میں دو کروڑ 50 لاکھ روپے چھوڑے ہیں اور وارثین میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں اب ان کے درمیان میراث کس طرح تقسیم ہوگی ؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے تایا کا انتقال ہوا انہوں نے بھی اپنا ترکہ دو کروڑ 50 لاکھ روپے چھوڑا ہے ان کے ورثہ میں چھ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اب ان کے درمیان میراث کس طرح تقسیم ہوگی براہ کرم شریعت کی روشنی میں مسئلے کا عنایت فرمائیں۔
واضح رہے کہ میت کی تجہیز و تکفین فرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک ثلث میں وصیت نافذ کر نےکے بعد کل مال کے پانچ حصے کیے جائیں گے جن میں سے بیٹے کو دو (2) اور بیٹیوں میں سے ہر ایک كو ايك ايك(1) حصہ دیا جائے گا۔ اس تقسیم کی رو سے بیٹے کے لیے 90لاکھ اور تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کے لیے 45لاکھ روپے ملیں گے ۔
القرأن الكريم : [النساء:/4 11] يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ . واضح رہے کہ میت کی تجہیز و تکفین فرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی میں وصیت نافذ کر نےکے بعد بقیہ کل مال کے 15حصے کیے جائیں گے جن میں سے ہر ایک بیٹے کو دو (2)جبکہ ہر ایک بیٹی کو ایک ایک(1) حصہ ملے گا ۔ اس تقسیم کی رو سے چھ بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 30لاکھ جبکہ ہر بیٹی کو 15 لاکھ روپے ملیں گے۔