کیا کسی شیعہ کے ہاں کوئی سنی مسلمان کھانا کھا سکتا ہے؟
ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے دینی عقائد کی حفاظت کرے اور ایسے میل جول سے احتراز کرے جس سے باطل عقائد کی تائید یا ان کی تشہیر کا تاثر پیدا ہو، خصوصاً دینی معاملات میں احتیاط ضروری ہے، تاکہ عام اور لاعلم لوگ غلط فہمی کا شکار نہ ہوں، مسلمان کو چاہیے کہ حسنِ اخلاق کے ساتھ اپنے عقائد کی حفاظت کرے اور مشتبہ امور سے بچنے کی کوشش کرے۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ بعض شیعہ گروہوں کے ہاں صحابۂ کرامؓ کے بارے میں نامناسب اور گستاخانہ نظریات پائے جاتے ہیں، لہٰذا ایک پکے مسلمان کے لیے اپنے دینی عقائد اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت و تعظیم کی حفاظت کرتے ہوئے ایسے میل جول سے احتراز کرنا چاہیے جس سے ان عقائد کی تائید یا تشہیر کا تاثر پیدا ہو۔
القرآن الکریم:(سورة هود، رقم الآية:113:11) وَلَا تَرْكَنُوْآ اِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ. أحكام القرآن للجصاص:(3/3،ط:دار الكتب العلمية) ثم قال تعالى: ﴿فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين﴾ يعني: بعدما تذكر نهي الله تعالى لا تقعد مع الظالمين. وذلك عموم في النهي عن مجالسة سائر الظالمين من أهل الشرك وأهل الملة لوقوع الاسم عليهم جميعا، وذلك إذا كان في ثقة من تغييره بيده أو بلسانه بعد قيام الحجة على الظالمين بقبح ما هم عليه، فغير جائز لأحد مجالستهم مع ترك النكير سواء كانوا مظهرين في تلك الحال للظلم والقبائح أوغير مظهرين له; لأن النهي عام عن مجالسة الظالمين; لأن في مجالستهم مختارا مع ترك النكير دلالة على الرضا بفعلهم. الهندية:(347/5،ط: دارالفكر) ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة، فإن ذبيحتهم حرام ولم يذكر محمد - رحمه الله تعالى - الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط.