اگر کسی شخص کی بیوی کو کوئی شخص زبردستی اپنے ساتھ لے جائے اور اس سے نکاح کرلے تو شرعاً اس نکاح کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ عورت پہلے شوہر کے نکاح میں ہی شمار ہوگی یا دوسرے شخص کے نکاح میں؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی منکوحہ بیوی کو زبردستی اغوا کرکے لے جائے اور اس سے نکاح کر لے، پھر اسے واپس بھی کردے تو یہ نکاح شرعاً صحیح نہیں ہوگا، عورت بدستور اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں رہے گی، دوسرے شخص کے ساتھ کیا گیا نکاح باطل ہوگا۔
القرأن الكريم :(هود6: 113) وَلَا تَرۡكَنُوٓاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنۡ أَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ الشامية : (3/ 516، ط : دارالفكر) أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا، فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لكونها زنا كما في القنية وغيرها. الهندية:(1/ 280، ط:دارالفكر) لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة .