السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص فوت ہوا ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بیٹی، ایک بیٹا، والد ، والدہ، ایک بہن اور چار بھائی ہیں۔ ان سب میں وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل مال کو بہتر (72) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بارہ (12) بارہ (12)حصے مرحوم کے ماں، باپ کو دیے جائیں گے، نو(9) حصے بیوہ کو، جبکہ بیٹے کو چھبیس ( 26)حصے اور بیٹی کو تیرہ (13) حصے دیے جائیں گے۔ اولاد کے ہوتے ہوئے مرحوم کے بھائی اور بہنوں کو میراث سے کچھ نہیں ملے گا ۔
*القرأن الكريم : [النساء:4:11]* ﴿يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ﴾ *القرآن الکریم:( النساء:11:4)* وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا. *القرآن الکریم: [النساء:/4 12]* ﴿ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ﴾ *الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر)* وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.