السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک آدمی کا انتقال ہوا، پیچھے رہنے والوں میں صرف دو بیٹیاں اور ایک بھتیجا ہے، میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟ کل جائیداد دو کروڑ روپے ہے۔
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ کر دینے کے بعد بقیہ کل مال کو تین (3) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے ایک ایک حصہ ہر بیٹی کو ملے گا اور ایک حصہ بھتیجے کو ملے گا، اس تقسیم کی رو سے دو کروڑ (20000000) روپے میں سے ہر ایک بیٹی کو چھیاسٹھ لاکھ، چھیاسٹھ ہزار، چھ سو، چھیاسٹھ (6666666.67) روپے ،جبکہ بھتیجے کو بھی چھیاسٹھ لاکھ، چھیاسٹھ ہزار ،چھ سو، چھیاسٹھ (6666666.67) روپے دیے جائیں گے ۔
*القرآن الکریم:( النساء: 11:4)* فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ. *فتح باب العناية:(39/2،ط:دار الأرقم بن أبي الأرقم)* وفي شرح الطحاوي: أولى الأولياء الأب والجد وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب، ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب، وكذلك أولادهم على هذا الترتيب. *الشامية:(783/6،دارالفكر)* ابن الأخ لا يعصب أخته كالعم لا يعصب أخته وابن العم لا يعصب أخته وابن المعتق لا يعصب أخته بل المال للذكر دون الأنثى لأنها من ذوي الأرحام.