مفتی صاحب ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے تو اس کے بعد اس کی بھانجی سے نکاح کر سکتا ہے؟
اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہو اور اس کی عدت بھی مکمل ہو چکی ہو تو اس کے بعد اس شخص کا اپنی سابقہ بیوی کی بھانجی سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، کیونکہ بیوی کی بھانجی سے نکاح کی ممانعت صرف اس وقت تک ہوتی ہے جب تک نکاح قائم ہو یا عدت جاری ہو، جب طلاق کے بعد عدت بھی ختم ہو جائے تو اس کے بعد بیوی کی بھانجی سے نکاح کرنا جائز ہے۔
*الهندية:(279/1،ط: دارالفكر)* ولا يحل أن يتزوج أخت معتدته سواء كانت العدة عن طلاق رجعي أو بائن أو ثلاث أو عن نكاح فاسد أو عن شبهة وكما لا يجوز أن يتزوج أختها في عدتها فكذا لا يجوز أن يتزوج واحدة من ذوات المحارم التي لا يجوز الجمع بين اثنتين منهن وكذا لا يجوز أن يتزوج أربعا سواها عنده هكذا في الكافي. *بدائع الصنائع:(263/2،ط:دار الكتب العلمية)* وكما لا يجوز للرجل أن يتزوج امرأة في نكاح أختها لا يجوز له أن يتزوجها في عدة أختها، وكذلك التزوج بامرأة هي ذات رحم محرم من امرأة بعقد منه، والأصل أن ما يمنع صلب النكاح من الجمع بين ذواتي المحارم فالعدة تمنع منه.