السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! کیا جو شخص جان بوجھ کر کسی دوسرے کا قرض ادا نہ کرے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
ابتدا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقروض میت کی نمازِ جنازہ خود نہیں پڑھاتے تھے، بلکہ صحابہ کرام کو پڑھانے کا کہتے جب تک کہ اس کے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری کوئی نہ لے لیتا، بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فراخی عطا فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان قرض چھوڑ کر فوت ہو، اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں جو شخص قدرت اور استطاعت کے باوجود جان بوجھ کر قرض ادا نہ کرے، وہ سخت گناہ گار ہے، البتہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا، تاہم اس کے ذمے موجود قرض کو اس کے ترکہ سے ادا کرنا ضروری ہے۔
*سنن الترمذي:(369/2،رقم الحديث:1070،ط:دار الغرب الإسلامي)* حدثني أبو الفضل مكتوم بن العباس الترمذي ، قال: حدثنا عبد الله بن صالح قال: حدثني الليث قال: حدثني عقيل ، عن ابن شهاب قال: أخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن ، عن أبي هريرة ؛ «أن رسول الله ﷺ كان يؤتى بالرجل المتوفى عليه الدين، فيقول: هل ترك لدينه من قضاء؟ فإن حدث أنه ترك وفاء صلى عليه، وإلا قال للمسلمين: صلوا على صاحبكم، فلما فتح الله عليه الفتوح قام فقال: أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم»، فمن توفي من المسلمين فترك دينا علي قضاؤه، ومن ترك مالا فهو لورثته. *الدرالمختار:(210/2،ط: دارالفكر)* (وهي فرض على كل مسلم مات خلا) أربعة (بغاة، وقطاع طريق) فلا يغسلوا، ولا يصلى عليهم (إذا قتلوا في الحرب) ولو بعده صلى عليهم لأنه حد أو قصاص. *الشامية:(210/2،ط: دارالفكر)* (قوله وهي فرض على كل مسلم مات) لفظ على بمعنى اللام التعليلية مثل ﴿ولتكبروا الله على ما هداكم﴾ [البقرة: ١٨٥] أو متعلق بمحذوف خبر ثان للضمير المبتدإ أو متعلق به لأنه عائد للصلاة بمعنى المصدر، والتقدير: والصلاة على كل مسلم مات فرض: أي مفترض على المكلفين، ولو أسقط الشارح لفظ فرض لكان أصوب لأنه تقدم تصريح المصنف به، ولئلا يوهم تعلق الجار به فيفسد المعنى فتدبر.