نماز جنازہ

محلے کے امام کےلیے میت کے ولی سے نماز جنازہ کی اجازت لینے کا حکم

فتوی نمبر :
1462
عبادات / جنائز / نماز جنازہ

محلے کے امام کےلیے میت کے ولی سے نماز جنازہ کی اجازت لینے کا حکم

نماز جنازہ پڑھانے سے پہلے امام محلہ کا میت کے رشتہ داروں سے اجازت لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ ہمارے امام صاحب کا یہی وطیرہ ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نمازِ جنازہ کی امامت میں سب سے پہلا حق حاکمِ وقت یا اس کے نائب کا ہوتا ہے، پھر قاضی، پھر محلہ کی مسجد کا امام اور اس کے بعد میت کا ولی۔محلہ کے امام کا ولی پر مقدم ہونا استحبابی ہے، یعنی اگر ولی امام کی موجودگی میں نماز پڑھا دے تو نماز درست ہے، لہٰذا اگر میت کا بیٹا دیندار ہو، اگرچہ عالم نہ ہو مگر نمازِ جنازہ کے مسائل جانتا ہو تو امام کی موجودگی میں اس کا نماز پڑھانا جائز اور درست ہے۔
چونکہ امامِ محلہ ولی سے زیادہ حقدار ہے، اس لیے ولی سے اجازت لینا ضروری نہیں، بلکہ بغیر اجازت کے بھی نمازجنازہ پڑھا سکتا ہے، تاہم اجازت لینا بہتر اور افضل ہے ۔

حوالہ جات

*الدر المختار:(219/2،ط: دارالفكر)*
(ويقدم في الصلاة عليه السلطان) إن حضر (أو نائبه) وهو أمير المصر (ثم القاضي) ثم صاحب الشرط ثم خليفته القاضي (ثم إمام الحي) فيه إيهام، وذلك أن تقديم الولاة واجب وتقديم إمام الحي مندوب فقط بشرط أن يكون أفضل من الولي، وإلا فالولي أولى كما في المجتبى وشرح المجمع للمصنف.

*تبيين الحقائق:(238/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
قوله: فصل: السلطان أحق بصلاته إلخ)...وأولى الناس بالإمامة فالصلاة في الأصل حق الأولياء؛ لأنهم أقرب الناس إلى الميت، وأولاهم به غير أن الإمام والسلطان يقدم بعارض الإمامة والسلطنة فلذلك قيد بالشرط فقال إن حضر فإن في التقدم عليه ازدراء به، وفيه فساد أمر المسلمين ثم إن لم يحضر الإمام أو السلطان أو القاضي فيستحب تقدم إمام الحي، وقال في شرح القدوري، وأما إمام الحي فتقديمه على طريق الأفضل، وليس بواجب كتقديم السلطان.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
31
فتوی نمبر 1462کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --