نماز جنازہ

مسجدمیں نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
1291
عبادات / جنائز / نماز جنازہ

مسجدمیں نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم

نمازجنازہ کے لیے مسجد کے ساتھ کوئ مناسب جگہ نہ ہو تو جنازے کو مسجد کے اندر یا باہر رکھ کر نماز مسجد کے اندر ادا کی جائے تو کیا اس کی گنجائش ہے؟َ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد میں نمازِ جنازہ کی تین صورتیں ہیں اور حنفیہ کے نزدیک علی الترتیب تینوں مکروہ ہیں : ایک یہ کہ جنازہ مسجد میں ہو اور امام و مقتدی بھی مسجد میں ہوں۔ دوم یہ کہ جنازہ باہر ہو اور امام و مقتدی مسجد میں ہوں۔ سوم یہ کہ جنازہ امام اور کچھ مقتدی مسجد سے باہر ہوں اور کچھ مقتدی مسجد کے اندر ہوں۔ اگر کسی عذر صحیح (مثلًا شدید بارش) کی وجہ سے مسجد میں جنازہ پڑھا تو جائز ہے۔
لہذا اگرجنازے کی نماز کے لیے کوئی متبادل جگہ نہ ہو یا مسجد کے سامنے اتنی سی جگہ بھی نہ ہو جس میں نمازجنازہ پڑھی جا سکے تو ایسی صورت میں مسجد کے اندر جنازے کی نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے، تاہم اس کے لیے یہ صورت اختیار کی جائے کہ جنازہ ،امام اور کچھ مقتدی محراب سے آگے جو مسجد کے باہر کا حصہ ہے، وہاں کھڑے ہوں اور باقی مقتدی مسجد میں کھڑے ہو جائیں ۔

حوالہ جات

*الدرالمختار مع ردالمحتار:(2/225،ط:دارالفكر)*
"(واختلف في الخارجة) عن المسجد وحده أو مع بعض القوم (والمختار الكراهة) مطلقًا خلاصة، بناء على أن المسجد إنما بني للمكتوبة، وتوابعها كنافلة وذكر وتدريس علم، وهو الموافق لإطلاق حديث أبي داود «من صلى على ميت في المسجد فلا صلاة له»

أن الصلاة على الميت فعل لا أثر له في المفعول، وإنما يقوم بالمصلي، فقوله من صلى على ميت في مسجد يقتضي كون المصلي في المسجد سواء كان الميت فيه أو لا، فيكره ذلك أخذا من منطوق الحديث، ويؤيده ما ذكره العلامة قاسم في رسالته من أنه روي «أن النبي صلى الله عليه وسلم لما نعى النجاشي إلى أصحابه خرج فصلى عليه في المصلى» قال: ولو جازت في المسجد لم يكن للخروج معنى اهـ مع أن الميت كان خارج المسجد.
وبقي ما إذا كان المصلي خارجه والميت فيه، وليس في الحديث دلالة على عدم كراهته لأن المفهوم عندنا غير معتبر في غير ذلك، بل قد يستدل على الكراهة بدلالة النص، لأنه إذا كرهت الصلاة عليه في المسجد وإن لم يكن هو فيه مع أن الصلاة ذكر ودعاء يكره إدخاله فيه بالأولى لأنه عبث محض ولا سيما على كون علة كراهة الصلاة خشيت تلويث المسجد.
وبهذا التقرير ظهر أن الحديث مؤيد للقول المختار من إطلاق الكراهة الذي هو ظاهر الرواية كما قدمناه، فاغتنم هذا التحرير الفريد فإنه مما فتح به المولى على أضعف خلقه، والحمد لله على ذلك."

*الهندية:(1/ ،ط:دارالفکر165)*
وصلاة الجنازة في المسجد الذي تقام فيه الجماعة مكروهة سواء كان الميت والقوم في المسجد أو كان الميت خارج المسجد والقوم في المسجد أو كان الإمام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقي في المسجد أو الميت في المسجد والإمام والقوم خارج المسجد هو المختار، كذا في الخلاصة.ولا تكره بعذر المطر ونحوه.


*کذا فی آپ کے مسائل اور ان کا حل:(4/380،ط:مکتبۂ لدھیانوی)*

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 1291کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --