السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے، جس کے پاس کل جائیداد چھتیس(36) لاکھ روپے مالیت کی ہے اور اس کے ورثا میں صرف دو بیٹیاں اور ایک بیٹا جس کی عمر ابھی تقریباً دس، گیارہ سال ہے، ہر ایک کے حصے میں کتنی میراث آئے گی اور کیا مجھے بھی حصہ ملے گا یا نہیں؟
واضح رہے کہ میت کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی میں وصیت نافذ کر نے کے بعد بقیہ کل مال کو چار(4) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے دو(2) حصے میت کے بیٹے کو اور ایک ایک (1) حصہ ہر بیٹی کو دیا جائے گا، لہذا اس تقسیم کی رو سے چھتیس لاکھ(3600000) روپے میں میں سے بیٹے کو اٹھارہ لاکھ (180000) روپے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو نو لاکھ (900000) روپے ملیں گے ۔
*القرأن الكريم :[النساء:/4 11]* ﴿يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ﴾ *وأيضاً:(450/6،ط: دارالفكر)* ويسقط الإخوة والأخوات بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق وبالجد عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ويسقط أولاد الأب بهؤلاء وبالأخ لأب وأم ويسقط أولاد الأم بالولد وإن كان بنتا وولد الابن والأب والجد بالاتفاق، كذا في الكافي. *الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر)* وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.