نکاح

گیارہ سال کی عمر میں بچی کا نکاح کرانا

فتوی نمبر :
2557
معاملات / احکام نکاح / نکاح

گیارہ سال کی عمر میں بچی کا نکاح کرانا

مفتی صاحبان !
کیا گیارہ سال کی عمر میں بچی کا نکاح کرانا شرعاً صحیح ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعتِ مطہرہ نے نکاح کے لیے کوئی خاص عمر مقرر نہیں کی، البتہ نابالغ لڑکا یا لڑکی خود نکاح کا عقد نہیں کر سکتے، بلکہ ان کے ولی، جیسے والد یا دادا، ان کی مصلحت کو سامنے رکھ کر نکاح کرا سکتے ہیں، اگر ولی کے علاوہ کسی اور نے بچپن میں نکاح کرایا ہو تو بلوغت کے بعد لڑکے یا لڑکی کی اجازت ضروری ہوگی۔
لہٰذا گیارہ سال کی عمر میں بھی مذکورہ شرائط و تفصیل کے مطابق، بچے یا بچی کا نکاح کرانا جائز ہے۔

حوالہ جات

*صحيح البخاري:(17/7،رقم الحديث:5134،ط: دار طوق النجاة)*
"حدثنا معلى بن أسد: حدثنا وهيب، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، «أن النبي ﷺ تزوجها وهي بنت ست سنين، وبنى بها وهي بنت تسع سنين، قال هشام: وأنبئت أنها كانت عنده تسع سنين.»

*فتح الباري بشرح البخاري:(190/9،ط:المكتبة السلفية)*
قوله: (لقول الله تعالى: ﴿واللائي لم يحضن﴾ فجعل عدتها ثلاثة أشهر قبل البلوغ)؛ أي فدل على أن نكاحها قبل البلوغ جائز، وهو استنباط حسن، لكن ليس في الآية تخصيص ذلك بالوالد ولا بالبكر. ويمكن أن يقال: الأصل في الإيضاع التحريم إلا ما دل عليه الدليل، وقد ورد حديث عائشة في تزويج أبي بكر لها وهي دون البلوغ فبقي ما عداه على الأصل، ولهذا السر أورد حديث عائشة، قال المهلب: أجمعوا أنه يجوز للأب تزويج ابنته الصغيرة البكر ولو كانت لا يوطأ مثلها، إلا أن الطحاوي حكى عن ابن شبرمة منعه فيمن لا توطأ، وحكى ابن حزم، عن ابن شبرمة مطلقا أن الأب لا يزوج بنته البكر الصغيرة حتى تبلغ وتأذن، وزعم أن تزويج النبي ﷺ عائشة وهي بنت ست سنين كان من خصائصه، ومقابله تجويز الحسن، والنخعي للأب إجبار بنته كبيرة كانت أو صغيرة بكرا كانت أو ثيبا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2557کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --