آمدنی و مصارف

آن لائن گیمز کے ٹورنامنٹ اور ان سے حاصل ہونے والے انعامات کا حکم

فتوی نمبر :
2555
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

آن لائن گیمز کے ٹورنامنٹ اور ان سے حاصل ہونے والے انعامات کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب!
ایک مسئلہ میں شرعی راہنمائی مطلوب ہے ،آج کل بچے آن لائن گیمز کھیلتے ہیں ، پھر اس میں آنلائن ہی ٹورنامنٹ منعقد ہوتے ہیں ، جیتنے والی ٹیم کو انعامات دیے جاتے ہیں ، کیا یہ گیمز کھیلنا اور جیت کر انعام حاصل کرنا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی کھیل یا گیم کے جائز ہونے کے لیے چند شرائط ہیں:
1)کھیل بذاتِ خود جائز ہو اور اس میں کوئی ناجائز بات شامل نہ ہو۔
2) اس میں دینی یا دنیاوی فائدہ ہو، جیسے جسمانی ورزش یا تعلیمی نفع۔
3).کھیل کے دوران غیر شرعی امور (موسیقی، تصاویر وغیرہ) شامل نہ ہوں۔
4) کھیل میں اس قدر انہماک نہ ہو کہ فرائض یا واجبات میں غفلت پیدا ہو۔
لہٰذا وہ گیمز جن میں دینی نہ دنیاوی فائدہ ہو، بلکہ صرف وقت کا ضیاع ہو، ان کا کھیلنا ناجائز ہے،اسی طرح وہ گیمز جن میں موسیقی یا جاندار کی تصاویر ہوں وہ شرعاً حرام ہیں،
پوچھی گئی صورت میں آن لائن گیمز میں عموماً یہ قباحتیں پائی جاتی ہیں ، لہذا یہ گیمز کھیلنا اور جیت کر انعامات وصول کرنا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

*القرأن الكريم :(لقمان31: 6)*
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَاب مُّهِين .

*تفسير روح المعاني:(11/ 66، ط:دار الكتب العلمية )*
ولَهْوَ الْحَدِيثِ على ما روي عن الحسن ‌كل ‌ما ‌شغلك ‌عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها .

*الدرالمختار : (6/ 349، ط: دارالفكر)*
وفي البزازية استماع ‌صوت ‌الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2555کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --