مفتی صاحب!
بینک میں کیشیئر کی جاب کے حوالے سے رہنمائی فرما دیجیے۔ کہ یہ جائز ہے یا نہیں؟
سودی بینک میں بطور کیشیئر یا کسی بھی ایسے منصب پر کام کرنا جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے ہو، شرعاً جائز نہیں، کیونکہ کیشیئر کا کام عموماً رقوم کی وصولی، ادائیگی، کھاتوں کی ترسیل اور دیگر مالی معاملات سے متعلق ہوتا ہے اور سودی بینک میں یہ تمام امور سودی نظام کا حصہ ہوتے ہیں، اس لیے یہ عمل سود کے لین دین میں عملی تعاون کےزمرے میں آتا ہے، جو کہ ناجائز و حرام ہے۔
البتہ اگر کوئی ادارہ خالصتاً اسلامی اصولوں کے مطابق (بلا سود) کام کر رہا ہو، جیسے اسلامی بینک یا مالیاتی ادارے، اور اس کے تمام معاملات شرعی اصولوں کے مطابق ہوں تو وہاں اس نوعیت کی ملازمت کی گنجائش ہے۔
*القرأن الكريم :[البقرة2 :278-279]*
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ 278 فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِ.
*ايضا : [المائدة5: 2]*
وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ .
*صحيح مسلم: ( رقم الحديث : 106 - (1598)، ط: دار طوق النجاة )*
عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء .