کسی عالم کے متعلق کہنا کہ وہ میرا ایمان ہے

فتوی نمبر :
2513
عقائد / /

کسی عالم کے متعلق کہنا کہ وہ میرا ایمان ہے

مفتی صاحب!
کسی عالم کے بارے میں کہنا کہ وہ میرا ایمان ہے، کیا اس طرح کے الفاظ سے کفر تو لازم نہیں آتا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی عالم یا بزرگ کی محبت میں کہنا کہ وہ میرا ایمان ہے، اگرچہ اس سے آدمی کافر نہیں ہوتا،تاہم ایسے الفاظ استعمال کرنا مناسب نہیں،اس لیے آئندہ اس قسم کے الفاظ کہنے سے اجتناب کیا جائے ۔

حوالہ جات

*الشامية:(224/4،ط: دارالفكر)*
وفي التتارخانية: لا يكفر بالمحتمل، لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية اهـ والذي تحرر أنه لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير فيها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها اهـ كلام البحر باختصار.

*امداد الفتاوی:(274/4،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)*
سوال :بہشتی زیور میں القاب بزرگاں میں قبلہ کعبہ لکھا گیا اور تذکرۃ الرشید میں مکروہ تحریمی لکھا ہی بدلیل قولہ علیہ السلام لا تطرو نی الحدیث، اس کی تاویل کیا ہے ؟
الجواب، بلاتا ویل مکروہ تحریمی ہے، اور بتاویل معنی مجازی کے جائز ہے گو خلاف اولیٰ ہے ۔“

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
1
فتوی نمبر 2513کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 163