شہر میں متعدد جگہ جمعہ قائم کرنا

فتوی نمبر :
1574
عبادات / نماز /

شہر میں متعدد جگہ جمعہ قائم کرنا

ایک علاقے میں تین مسجدیں تھیں، اس علاقے میں افغانی رہتے تھے اور وہاں بڑا بازار بھی تھا، اب چونکہ افغانیوں کو پاکستانی حکومت نے وہاں سے نکال دیا ہے تو اب آیا تینوں مسجدوں میں جمعہ کی نماز ادا ہوگی یا لوگوں کو ایک ہی مسجد میں جمع ہونا ہو گا؟ وضاحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جمعہ کی نماز کا مقصد مسلمانوں کا اتحاد، اجتماع اور بھائی چارہ ہے، اسی لیے جمعہ بڑی مساجد میں ادا کرنا زیادہ مناسب اور باعثِ برکت ہے۔
شہر میں مختلف مقامات پر جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہے، چاہے مساجد ایک دوسرے کے قریب ہی کیوں نہ ہوں، تاہم افضل یہ ہے کہ علاقے کے مسلمان باہم اتفاق سے کسی ایک جامع مسجد کو منتخب کریں، جہاں زیادہ نمازیوں کی گنجائش ہو۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں ایک مسجد میں نماز جمعہ پڑھنا افضل ہے، لیکن اگر تینوں مسجدوں میں الگ الگ نماز جمعہ ہو تو یہ بھی جائز ہے۔

حوالہ جات

*الدر المختار:(144/2،ط: دارالفكر)*
(وتؤدى في مصر واحد بمواضع كثيرة) مطلقا على المذهب وعليه الفتوى شرح المجمع للعيني وإمامة فتح القدير دفعا للحرج.

*الشامية:(144/2،ط: دارالفكر)*
(قوله مطلقا) أي سواء كان المصر كبيرا أو لا وسواء فصل بين جانبيه نهر كبير كبغداد أو لا وسواء قطع الجسر أو بقي متصلا وسواء كان التعدد في مسجدين أو أكثر هكذا يفاد من الفتح، ومقتضاه أنه لا يلزم أن يكون التعدد بقدر الحاجة كما يدل عليه كلام السرخسي الآتي (قوله على المذهب) فقد ذكر الإمام السرخسي أن الصحيح من مذهب أبي حنيفة جواز إقامتها في مصر واحد في مسجدين وأكثر به نأخذ لإطلاق «لا جمعة إلا في مصر» شرط المصر فقط.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
35
فتوی نمبر 1574کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --