چائے سے وضو کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1818
طہارت و نجاست / طہارت /

چائے سے وضو کرنے کا حکم

مفتی صاحب!
کیا چائے سے وضو کرنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر پانی میں کوئی پاک چیز ملنے سے پانی کے تین اوصاف یعنی رنگ، بو اور ذائقہ میں سے دو اوصاف بدل جائیں اور ایک وصف باقی رہے تو یہ پانی خود تو پاک ہوتا ہے، لیکن کسی کو پاک کرنے والا نہیں رہتا، اس لیے اس سے وضو اور غسل صحیح نہیں ہوتے، اگر صرف ایک وصف بدل جائے اور باقی دو اوصاف برقرار رہیں تو پانی خود بھی پاک رہتا ہے اور کسی انسان کو پاک کرنے والا بھی رہتا ہے، اس سے وضو اور غسل درست ہوتے ہیں۔
چائے میں چونکہ تینوں ہی اوصاف بدل جاتے ہیں، اس لیے اس سے وضو کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

*البحر الرائق:(73/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
فإن كان مخالفا للماء في الأوصاف كلها، فإن غيرها أو أكثرها لا يجوز الوضوء به، وإلا جاز، وعليه يحمل قول من قال إن غير أحد أوصافه جاز الوضوء به، وإن خالفه في وصف واحد أو وصفين فالعبرة لغلبة ما به الخلاف كاللبن يخالفه في الطعم، فإن كان لون اللبن أو طعمه هو الغالب فيه لم يجز الوضوء به وإلا جاز وكذا ماء البطيخ يخالفه في الطعم فتعتبر الغلبة فيه بالطعم وعليه يحمل قول من قال إذا غير أحد أوصافه لا يجوز.

*فتح القدير للكمال بن الهمام :(71/1،ط:شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)*
قال (ولا) يجوز (بماء غلب عليه غيره فأخرجه عن طبع الماء كالأشربة والخل وماء الباقلا والمرق وماء الورد وماء الزردج) لأنه لا يسمى ماء مطلقا، والمراد بماء الباقلا وغيره ما تغير بالطبخ، فإن تغير بدون الطبخ يجوز التوضي به.

قال (وتجوز الطهارة بماء خالطه شيء طاهر فغير أحد أوصافه، كماء المد والماء الذي اختلط به اللبن أو الزعفران أو الصابون أو الأشنان) قال الشيخ الإمام: أجرى في المختصر ماء الزردج مجرى المرق، والمروي عن أبي يوسف رحمه الله بمنزلة ماء الزعفران وهو الصحيح، كذا اختاره الناطفي والإمام السرخسي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
25
فتوی نمبر 1818کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --