مفتی صاحب !
گھر میں چور آ جائے تو اس کو قتل کرنا کیسا ہے؟
شریعت میں چوری ثابت ہونے کی صورت میں چور کی حد دایاں ہاتھ کاٹنا ہے، تاہم اس حد کے نفاذ کا اختیار صرف مسلمان حکمران یا اس کے مقرر کردہ قاضی کو حاصل ہے، عام افراد کو یہ سزا نافذ کرنے کا حق نہیں۔
البتہ اگر کوئی چور کسی کے گھر میں داخل ہو کر اس کا مال چوری کرنے کی کوشش کرے تو شریعت صاحبِ مال کو اپنے مال کی حفاظت کی اجازت دیتی ہے، اس مقصد کے لیے چور کو روکنا، مزاحمت کرنا بھی جائز ہے، اگر مال کی حفاظت کے دوران صاحبِ مال قتل ہو جائے تو وہ شرعاً شہید ہوگا اور اگر چور مارا جائے تو قتل کرنے والے پر قصاص لازم ہوگا، نہ دیت، بشرطیکہ اس کے سوا کوئی اور راستہ باقی نہ ہو، لیکن اگر ہلکی مزاحمت سے چور کو روکا جا سکتا ہو تو قتل کی اجازت نہیں۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب *القرآن الکریم:( المائدۃ:38:5)*
والسارق والسارقة فاقطعوا ایدیهما.
*بدائع الصنائع:(57/7،ط:دار الكتب العلمية)*
وأما شرائط جواز إقامتها فمنها ما يعم الحدود كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام وهذا عندنا، وعند الشافعي هذا ليس بشرط، وللرجل أن يقيم الحد على مملوكه - إذا ظهر الحد عنده بالإقرار أربعا عندنا، ومرة عنده وبالمعاينة بأن رأى عبده زنى بأجنبية، ولو ظهر عنده بالشهود بأن شهدوا عنده والمولى من أهل القضاء - فله فيه قولان.
*العناية شرح الهداية:(54/2،ط:دار الفكر)*
وقوله (ولا يجوز إقامتها إلا للسلطان) أي للوالي الذي لا والي فوقه وكان ذلك الخليفة (أو لمن أمره السلطان) وهو الأم