السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
آنکھوں سے جو آنسو رونے کی وجہ سے نکلے ہوں کیا اس کی وجہ سے وضو ٹوٹتا ہے؟
واضح رہے کہ وضو کے ٹوٹنے کے اسباب واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں اور ان میں رونا شامل نہیں، اس لیے رونا بذاتِ خود وضو کو فاسد نہیں کرتا، چاہے انسان نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ کسی اور حالت میں، لیکن اگر آنکھوں سے نکلنے والے آنسو بیماری کی وجہ سے ہوں تو تفصیل یہ ہے:
کہ اگر آنکھ سے نکلنے والا پانی بالکل صاف ہو، اس میں سرخی یا پیپ نہ ہو اور آنکھ میں کسی قسم کا درد بھی نہ ہو تو ایسا پانی پاک شمار ہوتا ہے اور اس کے نکلنے سے وضو فاسد نہیں ہوتا، البتہ اگر پانی بظاہر صاف ہو مگر آنکھ میں درد پایا جاتا ہو تو یہ پانی ناپاک ہوتا ہے اور اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ درد بیماری کی علامت ہے۔
اسی طرح اگر آنکھ سے نکلنے والا پانی متغیر ہو، یعنی اس میں رنگت، پیپ یا کسی اور غیر طبعی کیفیت کا اثر ظاہر ہو تو یہ ناپاک ہوگا اور اس کے نکلنے سے وضو بھی فاسد ہو جائے گا۔
*البحر الرائق:(227/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
ولو كان في عينيه رمد يسيل دمعها يؤمر بالوضوء لكل وقت لاحتمال كونه صديدا وفي فتح القدير وأقول: هذا التعليل يقتضي أنه أمر استحباب فإن الشك والاحتمال في كونه ناقضا لا يوجب الحكم بالنقض إذ اليقين لا يزول بالشك نعم إذا علم من طريق غلبة الظن بإخبار الأطباء أو علامات تغلب على ظن المبتلى يجب اهـ.
*درر الحكام:(16/1،ط:دار إحياء الكتب العربية)*
قال الزيلعي: لو كان في عينيه رمد أو عمش يسيل منهما الدموع قالوا يؤمر بالوضوء عند كل صلاة لاحتمال أن يكون صديدا أو قيحا اهـ.
وهذا التعليل يقتضي أنه أمر استحباب فإن الشك، والاحتمال في كونه ناقضا لا يوجب الحكم بالنقض إذ اليقين لا يزول بالشك نعم إذا علم من طريق غلبة الظن بإخبار الأطباء أو بعلامات على ظن المبتلى يجب كذا قاله صاحب البحر بعد نقله كلام الزيلعي اهـ.